"چلو اک بار پھر سے"
(10.9.87)
"ڈاکٹر صابر حسین خان"
پھر ایک بار خدا میرے لیے
خوابوں کا ساماں پیدا کررہا ہے
سانسوں کے در پر پھر ایکبار
اجنبی قدموں کی دستک گونج اٹھی ہے
دیکھتے ہیں اب کی دفعا
وقت کا کونسا لمحہ
آنکھوں کی سوئیاں نکال سکے گا
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں