پیر، 4 فروری، 2019

دل وحشی

"دل وحشی"
                      (2.12.86)
               "ڈاکٹر صابر حسین خان"

جی چاہتا ہے کہ پھر کوئی نظم لکھوں
(مگر آخیریہ نظمیں کون پڑھے گا)
میں تو احتیاط سے اپنی کتاب پہ
اخباری کاغذ چڑھا کے رکھتا ہوں
مگر پھر ایسا کیوں ہوتا ہے
کہ میری نظریں چاروں کھونٹ
ان ہاتھوں کو ڈھونڈتی ہیں
جو اپنی انگلیوں کے زرد نشاں
ہمیشہ ہمیشہ کے لیے
ہر ایک صفحے پہ چپاں کردیں
بارہا یہی سوچ کر
ایک نئی نظم لکھ دیتا ہوں
کہ شائد کہیں قدرت نے
کسی اندھیرے گوشے میں
میری محبت کا مرکز چھپا رکھا ہو
لیکن ہر بار کچھ لکھنے کے بعد
یہ سوال سوچنے بیٹھ جاتا ہوں
کہ اس دل وحشی کی صدا بھلا کون سنے گا
یہ بے سمت و بے انت و بے ربط نظمیں
کون پڑھے گا آخیر کیوں پڑھے گا

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں