"گرفتار"
(27.5.86)
"ڈاکٹر صابر حسین خان"
میرے گھر کے پائیں باغ میں
دوبائی ساڑھے تین فٹ کے
ڈربے میں پلنے والے کبوتر
اڑنے کا عمل بھول گئے ہیں
گو ان کے پروں کو کاٹے ہوئے
ایک زمانہ بیت چکا ہے
اور نئے سفید پروں کا جال
اب دھوپ میں چمکنے لگا ہے
لکین زمین پہ رینگتے رہے اور
مٹی ملا باجرہ چگنے نے
کبوتروں کے گرم خون کو
برف کی صورت جما دیا ہے
پہروں جاری اڑانوں سے
کشش کا ساماں ہٹا دیا ہے
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں