"یقین"
(30.6.83)
"ڈاکٹر صابر حسین خان"
میری بہن نے تم کو
جو عید کارڈ بھیجا ہے
اس پہ تم نے تو
میری لکھائی پہچان لی ہوگی
اور وہ جو فارسی کا شعر
میں نے پچھلے ورقے پہ
لکھا تھا اس کو دیکھ کر
تمھارا گمان یقینا
یقین میں بدل گیا ہوگا
تمھارے اس یقین کی قسم
مجھے یقین ہے کہ اب
میرے گھر کے دروازے پر
کبھی بھی ڈاکیہ
تمھارے نام کی دستک
نہیں دے گا
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں