اتوار، 10 فروری، 2019

انکار

"انکار"
                       (3.5.85)
                "ڈاکٹر صابر حسین خان"

بات کچھ بھی نہ تھی,بات اب بھی کچھ نہیں ہے
لیکن نہ تم انکار کرتیں اور نہ مجھے
تمھارے انکار کو اپنی اناکا مسئلہ بنانا پڑتا
میں پھر بھی گوارا کرلیتا
اگر تمھاری نظر وقت انتخاب غلطی نہ کرتی
مگر یہ تو گویا سونے پہ سہاگا ہوا
تم نے مجھےرد کرنا سو کردیا
کیونکہ ہوسکتا ہے میری ہتھیلی پہ
تمھارے نام کی کوئی لکیر ہی نہ ہو
لکین کسی دوسرے کو
مجھ پہ Prefrence دیتے وقت
کاش تم نے روح کے پیمانے سے بھی
ناپ تول  کے دیکھا ہوتا.

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں