"معافی"
(18.9.87)
"ڈاکٹر صابر حسین خان"
مجھے معاف کرنے کا فن نہیں آتا
میں اپنے ناکردہ گناہوں کی
سزا بھگت رہا ہوں
جب تقدیر نے ہمیشہ کے لیے
میری زندگی کو جنم کدہ بنا دیا ہے
تو پھر میں کس طرح
مہنہ میں انگارے ڈالتا ہوا
دوسرے ہاتھ سے پھول نکال سکتا ہوں
میں آگ کے دائرے میں
رقص کررہا ہوں
پاس آنے والے جلنے لگتے ہیں
اور گھر آکر بہت دور چلے جاتے ہیں
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں