"انتظار"
(23.10.83)
"ڈاکٹر صابر حسین خان"
میرے گھر کے آنگن میں
چودہویں کے چاند کی
روشنی کے سائے تلے
دل کے درد کا درماں بنکر
کئی جنموں کی سبز تنہائی
اپنے شانوں پر بال بکھیرے
اداسی کی نیلی چادر اوڑھے
ہوا کی زرد میں آکے
گیت گاتے پتوں کی تال پر
رات کے پہلے پہر سے
نوید سحر کے انتظار میں
دھیمے دھیمے ناچ رہی ہے
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں