بدھ، 6 فروری، 2019

سوچ و یقین

"سوچ و یقین"   "ڈاکٹر صابر حسین خان"

ہم سوچتے ہیں کہ کچھ اچھا ہوگا. جو کچھ ابھی ہے اس سے کچھ جدا ہوگا. ہمارا ایک فیصلہ, ہمارا ایک قدم ہمیں یہاں سے وہاں تک لے جائے گا.جہاں شفاف نیلے  پانی پر سنھرا چاند چمکتا ہے. جہاں ہوا کا زور اور بارش کی بوندوں کا شور ہمہ وقت گیت گاتا ہے. جہاں پرندے اور پورے ہمارے لئیے ایسی فضا بناتے ہیں جو ہم نے خواب میں بھی کبھی نہ دیکھی ہو.
ہم سوچتے ہیں کہ ایسا ہوگا. ایک عمر تک ہم ڈرتے رہتے ہیں. اپنے کمفرٹ زون (Comfort Zone) میں اپنے دکھوں, اپنی اذیتوں کے ساتھ رہتے چلے جاتے ہیں.دوسرے کنارے پر کھڑے ہنستے مسکراتے, چہچہاتے لوگوں کو دیکھتے رہتے ہیں. اور سوچتے رہتے ہیں کہ وہ ہم سے بہت اچھے دکھتے ہیں. وہ ہم سے بہت اچھے ہوں گے. وہ ہم سے ذیادہ سکھی, ذیادہ خوش, ذیادہ سکون میں ہوں گے.
ہمارے اور ان کے درمیان بس یہ کناروں کا تو فاصلہ ہے ہم جب چاہیں یہ فاصلہ طے کر لیں گے. ہماری چاہت وقت کے ساتھ جمنے لگتی ہے  اور پھر جم کر گھلنے لگتی ہیں. لیکن ہم فیصلہ نہیں کر پاتے. قدم نہیں اٹھا پاتے.
ہم رک جاتے ہیں. ہم آگے نہیں بڑھ پاتے. ہم سب کچھ چھوڑ کر انجانے سفر پر نہیں نکل پاتے. ہمیں دور نظر آنے والی چیزیں اچھی لگتی ہیں. لیکن ان تک پہنچنے کیلئے ہم خود کو تیار نہیں کر پاتے. خود کو اتنا اھل نہیں سمجھ پاتے کہ کچھ اچھا اور کچھ بھلا ہمارے لیئے بھی ہوسکتا ہے. ہم تقدیر کے لکھے کو تقدیر کی آخری تحریر سمجھ لیتے ہیں. ہم یہ نہیں سوچ پاتے کہ یہ بھی تو تقدیر میں لکھا ہوسکتا ہے کہ ہمیں ہمارے من کی پسند اس وقت ملے گی جب ہم ایک کنارہ چھوڑ کر دوسرے کنارے تک کا سفر کریں گے.
ہم یہ بھی نہیں سوچ پاتے کہ ہماری من پسند چیز اگر ہمیں مل بھی جائے تو کیا ہمیں سکھ چین آجائے گا. ہماری سوچ میں تو یہ بھی نہیں آتا کہ ہمیں اپنی من کی پسند کیوں چاہیے. اور جو ہمارے پاس موجود ہے وہ ہماری من پسند کیوں نہیں.
ہماری سوچ میں یہ بھی نہیں آتا کہ ہماری سوچ بھی تو ہماری تقدیر کے کہے کے تابع ہے. اوپر سے آرڈر آجائیں تو سوچ کے پر لگ جاتے ہیں اور آسمانوں اور زمینوں کی سیر برق رفتاری سے ہو جاتی ہے. اور جو سوچ بند کردی جائے تو ہم تمام عمر ایک کنارے پر کھڑے, دوسرے کنارے کے جواب دیکھتے رہتے ہیں اور سوچتے رہتے ہیں. ہمت نہیں کر پاتے. قدم نہیں بڑھا پاتے. ڈوب جانے کا خوف, سب کچھ چھٹ جانے کا خدشہ, سفر کی صعوبتوں کی فکر, دوسرے کنارے پہنچ کر بھی کچھ ہاتھ نہ آنے کا خیال, یہ سب سوچیں بھی تو بند سوچ کا حصہ ہوسکتی ہیں. ہم یہ بھی نہیں سوچ پاتے.اور یہ بند سوچ, تقدیر کا امر بھی تو ہوسکتی ہے. تو ایسی صورتحال میں کیا سوچنا چاہیئے. کیا مانگنا چاہیئے. کون سا خواب دیکھنا چاہیں. کون سا عذاب جھیلنے چاہیں.
سوچ کے اس سمے کون سی صدا بلند کرنی ہوتی ہے. کون سی دعا مانگنی ہوتی ہے. چپ رہنا ہوتا ہے یا بات کھولنی ہوتی ہے. ایسے لمحے یہ بھی پتہ نہیں چل پاتا. سوچ و فکر اور فیصلے کے سب دروازے بند ہوجاتے ہیں. پل بھر کو کوئی جھری دیکھتی بھی ہے تو سوال در سوال من کے اندر اٹھنے لگتے ہیں. پل بھر کیلئے کوئی خیال آتا بھی ہے تو خوف کی بھینٹ چڑھ جاتا ہے. آس, امید, گمان بلبلوں کی طرح پھوٹتے رہتے ہیں.
ہم اس سوچ میں رہتے ہیں کہ یہ سب وقتی ہے. کچھ دیر میں سب ٹھیک ہوجائے گا. دیر ہی کتنی لگنی ہے. ایک ہی جست میں ہم یہاں سے وہاں ہوں گے. تقدیر کے دامن میں دیر ہے, اندھیر نہیں, صبر کا پھل میٹھا ہوتا ہے. ہم یہی سوچتے ہیں. ہم یہی سوچتے رہ جاتے ہیں. اور اسی سوچ میں فطرت کے اس باریک و نازک نکتےکو بھول جاتے ہیں کہ قدرت نے آج تک کبھی کسی کم ہمت کا ہاتھ نہیں تھاما. کبھی کسی حوصلے و فیصلےسے عاری کے قدموں کو طاقت نہیں دی.
منزل ہمیشہ انہیں ملی, خواب انہی کے شرمندہ تعبیر ہوئے,جن کی آنکھوں کی چمک اور دلوں کے شرارے, بند سوچ کے باوجود توانا رہے اور جن کے قدم رکتے ضرور رہے مگر کسی مقام پر جمے نہیں. منزل ملتی بھی انہی کو ہے. جن کا یقین جوان رہتا ہے. جو وقتی طور پر اپنی توانائی Recharge کرنے کیلئے رکتے تو ضرور ہیں. اپنی تھکن اور سفر کی کثافت اتارنے کیلئے پڑاؤ تو ضرور ڈالتے ہیں. لیکن اپنی منزل کو نگاہوں سے کبھی اوجھل نہیں ہونے دیتے. اپنے خوابوں کو قیمتی ھیروں سے زیادہ حفاظت سے رکھتے ہیں. اپنے یقین کی حدت کم نہیں ہونے دیتے. اور اپنی قسمت اور اپنی محنت کے آئینوں پر مٹی جمنے نہیں دیتے.
یقین کی آگ,سوچ کی برف پگھلا دیتی ہے.
اور بند قسمت  میں بھی شگاف لگا دیتی ہے. ہم جو بھی سوچتے ہیں. ہم جو کچھ بھی سوچتے رہتے ہیں. سوچ کے اس سمندر میں یقین کا سہارا ہمیں دوسرے کنارے تک پہنچا سکتا ہے. بس بات یقین پر یقین رکھنے کی ہے.  اور یقین کو دل کے قریب رکھنے کی ہے.

           

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں