منگل، 5 فروری، 2019

سوچ کے رنگ

"سوچ کے رنگ" "ڈاکٹر صابر حسین خان"

آپ اس وقت کیا سوچ رہے ہیں. آگے پڑھنے سے پہلے ذرا دیر کو رکیئے اور سوچیئے کہ اس مضمون کو پڑھنے سے پہلے آپ کے ذہن میں کیا سوچ تھی. زحمت نہ ہو تو اپنی اس سوچ کے بنیادی نکات لکھ لیجئے.کیوں کہہ رہا ہوں. وجہ نہ سوچیئے بس اپنی موجودہ سوچ کو نوٹ کر لیجئے.میں بھی پیڈ اور قلم نکال کر کچھ دیر تک سوچتا رہا کہ کس موضوع کو لفظوں میں ڈھالا جائے.پھر اچانک ہی سوچا کہ کیوں نہ سوچ کو ہی کوئی شکل دے دی جائی.یہ اور بات ہے کہ من کا نگر ہے.رات سوا ایک کا پہر ہے. کچھ پتا نہیں کہ سوچ کہاں سے شروع ہو اور کہاں جاکے ختم ہو.ابھی کچھ دیر اور لکھنے کے بعد لیپ ٹاپ کھول کر 24(انگریزی ڈرامہ سیریز) کا سیزن "1" دیکھنے کا ارادہ ہے 2008-2009 میں پہلی بار 24 کے تمام سیزن دیکھے تھے. اور ابھی دو چار دن پہلے جب HomeLand کا چھٹا سیزن اور Billions
کے دونوں سیزن دیکھ چکا تو سوچا کسی پرانے ڈرامہ سیزن کو Revive کیا جائے. سوچ کی سوئی 24 پر رکی تو اسے شروع کردیا.
ہم میں سے شاید ہی چند ایک مخصوص انگریزی ڈرامہ سیزن دیکھنے کے عاری ہوں. اور اگر جو اس نوعیت کے انگریزی سیزن دیکھنے کے شوقین ہیں تو وہ اس نوعیت کی اردو تحریریں عام طور پر نہیں پڑھتے ہیں. اور نہ ان اردو ادب سے کوئی دلچسپی ہوتی ہے. لاکھوں میں کوئی چار چھ لوگ ہی ایسے ہوں گے. جن کا بچپن ابن صفی کے سحر اور شکیل عادل زارہ کی بازی گری اور محہی الدین نواب کی ٹیلی پبتھی کے حصار میں گزرا ہو.اور ساتھ ساتھ ایچ اقبال, ایم اے راحت, رضیہ بٹ, نسیم حجازی اور ان گنت دیگر لکھنے والوں کو پڑھتے پڑھتے اچانک لڑکپن میں پہنچتے ہی اشفاق احمد کے "اور ڈرامے" سوچ سے جا چپکتے ہوں. اور پھر خودبخود بند گلی سے راستے نکلتے گئے ہوں اور طرح طرح کی توتا کہانیاں اڑ اڑ کر آکے اپنی محبتوں اور اپنے افسانوں کی تماثیل بنانا شروع کردیں. شاید ہی چند ایک کے کی سوچ کے ساتھ ہی زندگی اتنے مختلف اور متضاد رنگوں کی بہار لاتی ہو.
سوچ سوچ کا فرق ہوتا ہے. ہم جو سوچتے ہیں. جیسا سوچتے ہیں. ویسا ہی ہوتا ہے.ہماری زندگی ہماری سوچ کے تابع ہوتی ہے اور بڑے ہی غیر محسوس انداز میں اسی رنگ میں ڈھلتی چلی جاتی ہے. جو رنگ ہماری سوچ کا ہوتا ہے. اور جو سوچ ہی کئی رنگوں کا مجموعہ ہوتو زندگی بھی کئی رنگوں کے زاویوں میں بٹ جاتی ہے.اور ھر رنگ, دوسرے رنگ سے زیادہ گہرا اور دل کو چھولنے والا ہوتا ہے. ڈراموں اور فلموں سے قدم کتابوں اور کہانیوں میں جا گھستے ہیں.نئے رنگ تلاشنےکیلئے سوچ کے نئے رنگ تراشنے کیلئے اور پھر جیتے جاگتے انسان اور ھر انسان کے نت نئے رنگوں سے مہمیز دل کی داستانیں اور سوچ کے سفر.ایک ایسا طلسم ہوش ربا گھل جاتا ہے. جس کا ہر رنگ, ہر سحر, ہر فسوں چوکھا اور اوکھا ہوتا ہے. اور شعور سے تحت الشعور اور لاشعور میں اس تیزی سے سرایت کرتا چلا جاتا ہے کہ ذرا دیر کو سنبھلنے اور قدم جمانے کا موقع تک نہیں ملتا اور سوچ کا سمندر گہرا ہوتا چلا جاتا ہے.
سوچ سمندر کی تہہ تک پہنچنا کسی بھی انسان کیلئے ممکن نہیں. ہم کتنے ہی علم والے ہوں, کشف پر کمال وعبور رکھنے والے ہوں,ہم کسی بھی انسان کی سوچ کی آخری پرت کو نہ چھو سکتے ہیں.نہ محسوس کرسکتے ہیں. ہم انسان کے Behavior کو Read کر سکتے ہیں. predict کرسکتے ہیں. ہم انسان کے Actions اور Reactions کو Assess
کر سکتے ہیں. ہم انسان کے جذبات اور احساسات کو سمجھ سکتے ہیں. محسوس کرسکتے ہیں. لیکن ہم انسان کی ہر پل بدلتی سوچوں کے محور کو کسی بھی پیمانے پر Measure نہیں کرسکتے.
بظاہر یکساں مزاج, سوچ وفکر, طورو اطوار رکھنے والے لوگ بھی اپنی سوچ میں برپا تلاطم سے واقف نہیں ہو پاتے. کب کون سی بات, کسی لمحے ہماری سوچوں میں ہلچل پیدا کردے, ہمیں نہیں پتہ.کب کون سا خیال سوچ کو پتھر بنادے, کب کون سا احساس سوچ کو شرارہ کر دے,ہمیں نہیں پتہ. مسئلہ اس وقت گھمبیر ہوتا ہے جب ہم اپنی گوناگوں سوچوں پر قابو نہیں پاپاتے اور اس مصروفیات کی طرح اپنی سوچوں میں بھی توازن برقرار نہیں رکھ پاتے.
ہماری سوچ بھی ہماری طرح ہوتی ہے. ایکبار ہمارا پاوں اگر رپٹ جائے تو ہم دور تک لڑھکتے چلے جاتے ہیں. سوچ بھی اگر ایکبار بپھر جائے تو بکھرتی چلی جاتی ہے.
ایک سوچ سے ہزار سوچیں پیدا ہوجاتی ہیں اور وہ ہمیں ذہنی انتشار میں مبتلا کر ڈالتی ہیں. یہ سوچے بنا کہ ہمارا کیا حال ہوگا. کہ سوچ کی اپنی کوئی سوچ نہیں ہوتی. بپھری اور بکھری سوچوں کو مجتمع کرنا مشکل ہوتا ہے. تگ ودو کرنی پڑتی ہے. پتہ مارنا پڑتا ہے. جس طرح بکھری ہوئی بکریوں کے ریوڑ کو ایک جگہ جمع کرنے کیلئے سونٹی استعمال کرنی پڑتی ہے. اس طرح بپھری ہوئی سوچوں کو قابو کرنے کیلئے توجہ اور یکسوئی کی لاٹھی گھمانی پڑتی ہے. مگر عام طور پر ہم سب کے سروں پر اتنے کام سوار ہوتے ہیں کہ ان کے دباؤ کے بوجھ تلے ہماری توجہ ویکسوئی کی لاٹھی بار بار ٹوٹتی رہتی ہیں. بار بار ہمیں نئی لاٹھی کا انتظار کرنا پڑتا ہے. اس چکر میں ہماری سوچیں آوارہ منش ہوتی ہیں. ان کا Balance  ان کی Symmetry ان کا Nomenclature ان کا Structure سب کا سب بگڑتا چلا جاتا ہے. اور ایک وقت آتا ہے جب ان کا حال بگڑی ہوئی اولاد کی طرح ہوجاتا ہے. جو پھر کسی بات, کسی سختی, کسی نرمی, کسی طریقے سے راہ راست پر نہیں آتی.
ہم اپنےآپ پر, اپنی ہر چیز, اپنی ہر بات ہر خوب توجہ دیتے ہیں. خوب وقت وپیسہ صرف کرتے ہیں. تراش, فراش اور لباس سے لیکر اپنے استعمال کی ہر چیز پر جوتے,گھر کا فرنیچر,فون,گاڑی,کھانے سب ہی میں وقتا فوقتا اپنے وقت اور پیسے کیInvestment کرتے رہتے ہیں. تعلیم, اسکول, کالج اور ڈگریوں کا معاملہ ہو یا روزگار, کاروبار اور نوکریوں میں کامرانی کا. ھر معاملے میں چوکس و چوکنا رہتے ہیں.جسمانی صحت کے معاملات ہوں یا رشتہ داریاں اور دوستیاں نبھانے کے مواقع ہوں.ہر جگہ ہر بات کا خیال رکھنے کی کوشش کرتے ہیں. مذہبی فرائض کی ادائیگی ہویا لین دین کا حساب کتاب ہر حوالے سے اپنے تئیس دو جمع دو برابر پانچ کے فلسفے کے تحت ہمہ وقت مصروف رہتے ہیں.
لیکن سب باتوں سب حوالوں میں ہم اپنی روحانی وذہنی صحت کی بقا واستحکام کو بھول جاتے ہیں. ہماری سوچ ہی ہماری روحانی وذہنی صحت کیلئے آکسیجن اور خون کا کام کرتی ہے. اور ہم دنیا بھر کے چکروں میں الجھ کر اپنی سوچ سے تعلق ختم کر بیٹھتے ہیں. ہم کیا سوچتے ہیں. ہم کیوں ایسا سوچتے ہیں. ہم کب کہاں کن مواقع پر کس کس طرح سوچتے ہیں. ہم اپنے کاموں میں مصروف ہو کر اپنی سوچ کے بارے میں ہی سوچنا چھوڑ دیتے ہیں. اپنی سوچ کی صفائی چھوڑ دیتے ہیں. اپنی سوچ کو Educate اور Groom کرنا چھوڑ دیتے ہیں. ہم بھول جاتے ہیں کہ ہماری زندگی کی گاڑی کا انجن ہی ہمارا ذہن اور ہماری روح ہے. اور ہماری سوچ کے Multidimensional پہلو ہی ہمارے انجن کیلئے تیل,پیڑول, پانی اور کرنٹ کا کام کرتے ہیں. ان چاروں چیزوں میں کسی بھی طرح کی کثافت اور گدلاپن ہمارے انجن کی Efficiency متاثر کرتا ہے.
چند منٹ کیلئے ہمارے دماغ تک اگر خون یا آکسیجن کی فراہمی منقطع ہوجائے تو ہم اپنے تمام کام فراموش کرکے بے ہوش ہوجاتے ہیں. دنیا ومافیہا سے بے خبر ہوجاتے ہیں. اس طرح ہماری سوچ اگر حد سے زیادہ گدلی کثیف اور منتشر ہوجائے تو ہماری تمام تر روحانی طاقت سلب ہوجاتی ہے اور ہماری ذہنی صلاحیتیں منجمد ہوجاتی ہیں. پھر ہمارے کاموں میں رفتہ پڑنے لگتا ہے.ہمارے معاملات الجھنے لگتے ہیں. ہم بیمار پڑنے لگتے ہیں. ہماری نیند کم ہوجاتی ہے. ہم پریشان رہنے لگتے ہیں. ہمارے مزاج میں چڑچڑاپن پیدا ہو جاتا ہے. ہم بات بات پر الجھنے لگتے ہیں. ہمارا سکون و آرام غائب ہو جاتا ہے. ہم اپنے Targets  اور Goals سے پیچھے رہنے لگتے ہیں. ہمہ وقت طرح طرح کے مسئلوں میں الجھے رہتے ہیں. پھر ہمیں کوئی راستہ سجھائی نہیں دیتا. کسی مسئلے کا حل دکھائی نہیں دیتا. اور سونے پر سہاگا یہ کہ پھر ہمیں اپنے مسئلوں, اپنی پریشانیوں, اپنے راستے کی رکاوٹوں کی بنیادی وجہ بھی سمجھ میں نہیں آپاتی. اور ہم ایسی دلدل میں اترتے چلے جاتے ہیں. جس سے واپس نکلنا ممکن نہیں ہوتا.
ہمارے تمام مسئلوں, تمام پریشانیوں اور راستے کی تمام رکاوٹوں کی عام طور پر بنیادی وجہ ہماری اپنی سوچ ہوتی ہے. ہماری سوچ کا انتشار وفشار ہوتا ہے. ہماری سوچ کی کثافتیں اور منفی شعائیں ہوتی ہیں. جو ہمیں صحیح ومتوازن خطوط پر سوچنے نہیں دیتیں. ہمارے مسائل اور ان کے حل کے درمیان دیوار بنا ڈالتی ہیں. اور ہم چونکہ سوچنے کے آرٹ سے ناواقف ہوتے ہیں. سوچنا چھوڑ چکے ہوتے ہیں. تو ہم اس دیوار کے پار جھانک نہیں پاتے. اپنے مسائل کا حل نہیں دیکھ پاتے اور روحانی کرب اور ذہنی اذیت میں اپنی زندگی گزارتے چلے جاتے ہیں. اپنے حال میں بدحال, وقت میں برکت سے محروم, لوگوں کے بیچ بھی اکیلے پن کا بوجھ تلے,روٹین کی زندگی, نئے خیالوں,نئی رعنائیوں, نئی سوچوں سے عاری زندگی.
آپ کی زندگی کیسی ہے, مجھے نہیں پتہ,
میری زندگی کیسی ہے, آپ کو نہیں علم, میں تو البتہ کوشش کرتا ہوں روزانہ سوچوں کا Dustbin صاف کرنے کی کبھی مضمون لکھ کر, کبھی مراقبہ کرکے.
کبھی رات کے سناٹوں میں خود کو پورے کا پورا تنہائی کا حوالے کرکے, کبھی کتابیں پڑھ کے, کبھی دروشریف کا ورد کرکے, کبھی خدا واسطے ٹوٹے دلوں کی کاونسلنگ کرکے,کبھی ایسے ڈرامے اور سیزن دیکھ کے, جو سوچوں کی صفائی کے ساتھ ساتھ ان کو ایک نکتے پر مرتکز کرنے میں معاون ثابت ہو سکیں. اور کبھی کچھ بھی نہیں کرکے.
آج سے آٹھ نو سال پہلے جب پہلی بار 24 کے 9 سیزن دیکھے تھے. اس وقت سوچ کچھ اور تھی اور ان کو دیکھنے کے بعد سوچ کے زاویوں میں کچھ اور طرح کی, کچھ نئی, کچھ انوکھی تبدیلیاں آئی تھی. اور اب جبکہ فی الحال دوسرے سیزن کی آٹھویں گھنٹے پر پہنچا ہوں تو سوچ کا کچھ اور حال ہے. 2001 سے 2009 تک 24 کا ڈرامہ سیزن ٹیلی کاسٹ ہوتا رہا. پہلے سیزن کی پہلی قسط میں جو کہانی شروع ہوئی. اس میں ڈیموکریٹک پارٹی کے ایک سیاہ فام امریکی کو امریکہ کا پہلا سیاہ فام صدر بنتے دکھایا گیا. یعنی حقیقی طور پر یہ واقعہ پیش آنے سے آٹھ سال پہلے ہی فکشن کے ایک ڈرامے کے ذریعے لوگوں کی سوچ کو ایک خاص زوایے میں ڈھالنے کا عمل شروع کر دیا گیا. اور ٹھیک آٹھ سال بعد واقعتا ایک سیام فام امریکہ کا پہلا سیاہ فام صدر بنتے میں کامیاب ہوگیا. اس طرح کے ان گنت فکشن اور ایکشن سے بھر پور انگریزی ڈرامہ سیزن ہیں. اور اس طرح کے ان گنت ناول نظر سے گزر چکے ہیں. جو باقاعدہ خصوصی نفسیاتی اصولوں کو مد نظر رکھتے ہوئے مخصوص طرح کی سوچ کو لوگوں کے ذہنوں میں لاشعوری طور پر پیوست کرتے ہیں. اور پھر کچھ عرصے کے بعد واقعتا بالکل ویسا ہی عملی شکل میں ڈھالتا نظر آیا ہے.
اب آپ سوچیئے کہ ہم اور آپ کہاں کھڑے ہیں. اور ہماری سوچ ہمیں کہاں لیجارہی ہے. اور کیوں لیجارہی ہے. لیکن سوچنے سے پہلے ذرا وہ صفحہ نکال لیجئے. جس پر آپ نے مضمون کی ابتدا میں اپنی اس وقت کی سوچ کو قلم بند کیا تھا.
یقینا بہت سوں نے نہیں کیا ہوگا. لیکن جس جس نے بھی ایسا کیا تھا تو یقینا لاشعوری طور پر وہ واقعی اپنی سوچ کے سدھار کی نیت رکھتا ہوگا. دیکھنے! اس لمحے آپ نے اپنی کیا سوچ لکھی تھی. اور پھر کچھ دیر کیلئے کچھ نہ کیجئے. صرف سوچیئے کہ اس مضمون کو پڑھ کر آپ کی سوچ کے سمندر میں کیا کس طرح کی نئی لہریں پیدا ہوئیں. اگر ہوئیں تو بہت اچھی بات ہے اور اگر نہیں تو سوچیئے گا کہ ایسا کیوں نہیں ہوا.

                         

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں