ہفتہ، 9 فروری، 2019

سناٹا

"سناٹا"
                    (29.3.86)             
              "ڈاکٹر صابر حسین خان"

گردش زمین سے اکتاکر
شام ڈھلے جب آسماں پہ
ستاروں کی محفل سجتی ہے
تو میں اور میری تنہائی!
اداسی کی چادر اوڑھ کے
کاٹ ڈالنے والی نظروں سے
خود کو اوجھل کرلیتے ہیں
پھر جب رات شبنم روتی ہے
ہم چاند سے باتیں کرتے ہے
اور دل کو درد سے بھرتے ہیں
کہ آنے والے دن کے لیئے
سانس کا ساماں تو پیدا ہو 

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں