"وقفہ"
(14.11.83)
"ڈاکٹر صابر حسین خان"
آج جب میرا ماتھا
انا کے چاند سے دہک رہا ہے
اور میرے گلے میں
دوریوں کی مالا پڑی ہے
میں شب کی تابنا کی میں
اپنے ہاتھوں اپنی آنکھوں سے
ایک مانوس اجنبی کی یادوں کے
مہکتے خواب چنتے ہوئے سوچتا ہوں
کیا ہم دونوں!
کئی سال جدا رہنے کے بعد
دوبارہ بچھڑنے کے لیئے
ایک دوسرے سے ملے تھے
ہوسکتا ہے لوح محفوظ پر
یہ بات یونہی لکھی ہو
مگر کیا ہی اچھا ہوتا جو
جدائیوں کے پیہم رواں کے سلسلے کے بیچ
مختصر سی خوشنما وخوشرنگ
ذیست کا یہ وقفہ نہ آیا ہوتا
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں