"قاتل"
(16.9.87)
"ڈاکٹر صابر حسین خان"
گمشدہ آوازوں کو کھوجنے کے لیے
جب ہم راتوں کو اٹھ اٹھ کر
اپنے گریبانوں میں جھانکتے ہیں
تو ہم کو اپنی ہی تصویریں
دکھائی دیتی ہیں
ہمارے ہاتھوں میں
اپنی ہی گردنیں ہوتی ہیں
ہمیں اپنے ہی خوں سے
ادھورے نقش ابھارنے پڑتے ہیں
اور ہماری عمر
برف کی طرح پگھل رہی ہے
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں