پیر، 4 فروری، 2019

چہرہ بہ چہرہ رو بہ رو

"چہرہ بہ چہرہ رو بہ رو"
                    (5.10.87)
                "ڈاکٹر صابر حسین خان"

شام کے پہلے ستارے سے لیکر
نئے دن کے سورج کی
پہلی شبنمی شعاع تلک
جس طرح
میرے دل کی دھڑکنیں
درد کی باہوں میں جھولا جھولتی ہیں
اور میری سانس کی ساعتیں
چاند کی کرنوں کے سنگ سنگ ڈولتی ہیں
میں اگر اپنی اس کیفیت کے
سب رنگ اور سارے آہنگ
آئینوں کے قالب میں ڈھال دوں
یا لفظوں کی شطرنج پہ بچھا دوں
تو مجھ کو یقین ہے کہ
جب بھی اور جہاں کہیں
تم کوئی آئینہ دیکھو گی
تم کو ہر ہر آئینے میں
ایک ہی فرد کے رنگ نظر آئیں گے
اور جب بھی اور جہاں کہیں
تم کسی سے گفتگو کروگی
یا رات کے آخری پہر
کوئی بھی کتاب پڑھو گی
تو ہر لفظ کے ہر حرف میں تم کو
ایک ہی آواز کے آہنگ
سنائی بھی دیں گے دکھائی بھی دیں گے

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں