"اس نے سیکھ لیا ہے اداس کرنا"
(4.10.86)
"ڈاکٹر صابر حسین خان"
اوپر والی منزل کا اکلوتا کمرہ
بانوقدسیہ کے ناول "راجہ گدھ"
کے ہیرو قیوم کی طرح
میری اور محمد علی کی زندگی کا
اہم سنگ میل بن گیا ہے
معروضی بھی اور کائناتی بھی
دوسری طرف
خالد اور طاہر کے گھروں میں
اوپر کی کوئی منزل نہیں
تھرڈ فلور پر طاہر کا فلیٹ
تین کمروں پہ مشتمل ہے
چار سو گز پہ بنا ہوا
گلشن میں خالد کے چچا کا گھر
اور ٹنڈ والہ یار میں
اسکے والدین کی قیام گاہ
دونوں اوپر کی منزل سے محروم ہیں
پھر بھی طاہر کا اسٹڈی روم
اور خالد کے دونوں مکانوں کی بیٹھکیں
میرے اور علی کے مکانوں کی
اوپر والی منزل کے اکلوتے کمرے سے
کتنی مماثلت رکھتی ہیں
یہ سب جگہیں ہم سبکو
کتنا اداس کرتی ہیں
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں