"رہ نورد"
(23.7.85)
"ڈاکٹر صابر حسین خان"
(1)
میرے خدا!
میری وحشتوں کو کوئی تو سائبان دے
میری در بہ در پھرنے والی سوچوں کے لیئے
کسی بھی گھر کے در پہ کھڑا
ہاتھ پھیلائے ہوئے کوئی تو میزبان دے
(2)
اب جب کہ مہربان خدا نے
میری وحشتوں کے لیے
محبتوں کا سائبان فراہم کردیا ہے
اور میری دربدر پھرنے والی سوچوں کے لیے
کھلے در کے گھر کی چوکھٹ پر کھڑا
نظریں بچھانے والا میزبان دے دیا ہے
میں سوچتا ہوں
کاش میرے لبوں پر یہ دعا نہ آئی ہوتی
کہ اب میری وحشتیں اور بڑھ گئی ہیں
اور میری سوچیں میرے بس میں نہیں رہی ہیں
کاش کہ ہم لوگوں کو خدا نے
دعائیں مانگتے رہنے کا حکم نہ دیا ہوتا
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں