جمعرات، 14 فروری، 2019

The Dreamless Dreams

"The Dreamless Dreams"
                       (20.8.88)
                  "ڈاکٹر صابر حسین خان"

دل کے خالی مکاں کی
گرد زدہ سپاٹ و سنگی دیواریں
آہستہ آہستہ اپنی آب و تاب کھو رہی ہیں
جگہ جگہ نمک زدہ دراڑیں
آڑے ترچھے راستے بنارہی ہیں
وقت کی آہنی مکڑیاں
اپنے چھوٹے چھوٹے باریک پیروں سے
ڈھکے چھپے گوشوں میں
غم کے آسمانی جالے بن رہی ہیں
روز رات کو وحشتوں کی چئونٹیاں
چپے چپے پہ انگارے رکھ جاتی ہیں
لٹکتے ہوئے کواڑووں پہ
آوارہ ہوائیں دستکیں دیکر
کسی اور حصے کی طرف نکل جاتی ہیں
اور آنکھ ہے کہ کھلتی ہی نہیں

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں