جمعرات، 14 فروری، 2019

The Dreams That Are Not Yet Dreamed

"The Dreams That Are Not Yet Dreamed"
                        (21.8.87)
                "ڈاکٹر صابر حسین خان"

ہم دونوں اکٹھے بیٹھ کر
اپنی اپنی خاموشیوں میں گم
خلا کو تکتے رہتے ہیں
جانے کیا دیکھتے رہتے ہیں
کسی کی سمجھ میں نہیں آتا
وہ بات کیسے شروع کی جائے
جو بات نہ جانے کب اور کہاں
ازخود شروع ہوگئی تھی
اور جس کے انجام میں معلوم ہو
کہ تاریکی اور دھویں کے سوا
کچھ بھی ہاتھ نہ آئے گا
کبھی کوئی سرا نہیں ملتا
لکین پھر بھی نہ جانے کیوں آخر
ایسا اکثر ہوتا ہے
جب بھی ہم دونوں اکیلے ہوتے ہیں
جانے کیا سوچتے رہتے ہیں
خلا میں گھورتے رہتے ہیں

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں